حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ الازہر مصر "یسری جبر" نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کے دوران کہا: والدین سے حسنِ سلوک جہاد فی سبیل اللہ کے برابر قرار پا سکتا ہے اور بعض مواقع پر اس سے بھی بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے اس حوالے سے ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جہاد کی اجازت طلب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ’’کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟‘‘ اس شخص نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’پس انہی کے خدمت میں جہاد کرو۔‘‘
مولوی یسری جبر نے کہا: یہ حدیث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ والدین سے حسنِ سلوک بھی ایک طرح کا جہاد ہے، خصوصاً اس وقت جب جہاد فی سبیل اللہ ’’واجبِ عینی‘‘ نہ ہو بلکہ ’’واجبِ کفائی‘‘ ہو، جسے بعض افراد انجام دیں تو دوسروں سے ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں انسان کا والدین کے پاس رہنا اور ان کی خدمت کرنا زیادہ ترجیح رکھتا ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہے۔
جامعۃ الازہر مصر کے اس عالم نے مزید کہا: والدین سے حسنِ سلوک ’’نفس سے مجاہدت‘‘ کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ والدین کے اخلاق اور مزاج مختلف ہوتے ہیں اور بعض اوقات ان کا مزاج مشکل بھی ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں راضی کرنے کے لیے صبر و تحمل کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تاہم یہ امر والدین کے ساتھ بدسلوکی یا ان کے حقوق میں کوتاہی کا جواز نہیں بنتا بلکہ اولاد کو صبر اور احسان کا پابند بناتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: والدین کے بداخلاق ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ بدسلوکی کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے تمام حالات میں والدین کے ساتھ صبر و تحمل اور حسنِ سلوک کی ضرورت پر بھی زور دیا۔









آپ کا تبصرہ